پاسٹر ایڈرئین راجرز
ہر شخص دو بڑی خواہشات رکھتا ہے۔ پہلی یہ کہ اُس سے مُحبّت کِی جائے اور دوسری وہ خُود مُحبّت کرے۔ لیکن جب ہماری زِندگی میں دباؤ اور گہری پریشانیاں آتی ہیں تو بہت سے لوگ کِسی بھی وقت مُحّبت مِلنے کی اُمید چھوڑ دیتے ہیں۔
یُوحنّا ۱۶:۳ شاید بائبل مُقدس کی مشہور و معروف آیت کچھ یُوں ہے:
"کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی مُحبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے
ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔"
سادگی سے بیان کی گئی یہ آیت ہمیں چار باتیں بتاتی ہے:
خُدا نے محبت رکھی۔ خُدا نے بخش دِیا ۔ ہم اِیمان رکھیں۔ ہم زِندگی پائیں۔
جب تک آؔدم اور حوؔا نے نافرمانی کر کے گُناہ کو دُنیا میں متعارف نہ کروایا خُدا کی مخلوق کامل تھی۔
اُن کے گُناہ نے اُن کو فوری طورپر خُدا سے جُدا کر دِیا۔ اور چونکہ ہم آدؔم کی نسل سے ہیں، اِس لئے جب ہم پیدا ہوتے ہیں تووہ موروثی گُناہ ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم بھی خُدا سے جُدا ہیں۔
اگرچہ ہم نے اِس حالت کااِنتخاب نہیں کِیا ہوتا، مگر یہ موجود ہوتی ہے - جیسے دیگر ہر چیز ہمیں والدین سے میراث میں مِلتی ہے۔ لیکن ہماری گُنہگار فطرت کے باوجود بھی خُدا ہم سب سے محبت رکھتا ہے اور اُس جُدائی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
یُوحّنا ۳: ۱۶ ہمیں خُدا کی محبت کی گہرائی بھی بتاتی ہے اور ہمارے گُناہ کے لئے اُس کی بخشش بھی۔
گُناہ کی سزا موت ہے۔ رُومِیوں ۶:۲۳ میں لکھا ہے: "کیونکہ گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے (خُدا کی محبت اور رحمت سے ہمیشہ کے لئے علیحدگی)۔" اِس لئے بائبل مقدس کے پرانے عہد نامہ میں بہت سی قربانیوں کی ضرورت ہوتی تھی۔
لیکن خُدا نے ہم سب کی خاطر ایک ہی بار ہمارے گُناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے اپنا اِکلوتا بیٹا یِسُوع حتمی قربانی کے طور پر بخش دیا۔ یِسُوع کی صلیبی موت ہمارے گُناہ کا فِدیہ ہے جو ہم پر قرض تھا۔
ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فردوس میں جانے کی غرض سے خُدا کی محبت حاصل کرنے کے لئے ہماری راست بازی کے کام بے کار ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو بچا سکتے تو یِسُوع کی صلیبی موت غیر ضروری ہوتی۔ بائبل مقدس بتاتی ہے کہ: "ہم کو نجات دی، مگر راست بازی کے کاموں کے سبب سے نہیں جو ہم نے خُود کئے، بلکہ اپنی رحمت کے مطابق نئی پیدایش کے غُسل اور رُوحُ القُدس کے ہمیں نیا بنانے کے وسیلہ سے" (طِطُس ۳:۵)۔
نجات خُدا کے فضل کے وسیلہ سے (ایک نعمت) ہے، نہ کہ ہمارے اَعمال کے وسیلہ سے۔ (اِفسیوں ۲:۸-۹)
ہمارا جواب کیا ہے؟ ہم خُدا کی محبت کو نظر انداز کر سکتے ہیں یا اُس پر اِیمان لا سکتے ہیں۔ ہم خُدا کی نعمت کو رد کر سکتے ہیں یا اُسے قبول کر سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ اِیمان لانے کا اِنتخاب کرتے ہیں کہ زِندہ خُدا کا بیٹا یِسُوع، جو ہماری خاطر مُؤا اور پھر جی اُٹھا، اور اگر ہم اپنی زِندگیاں اُس کو دے دیں، تو یُوحنا ۳:۱۶ کے مطابق ہم زِندگی پا سکتے ہیں۔
جو کام ہم اپنے واسطے نہیں کر سکتے تھے، یِسُوع نے وہ کر دِیا ہے۔ "لیکن خُدا اپنی محبت کی خُوبی ہم پر یُوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گُنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مُؤا" (رُومیوں ۵:۸)۔ یہ یسُوع کی کہانی ہے۔ وہ کنواری سے پیدا ہُوا، گُناہ سے پاک زِندگی بسر کی، ہماری خاطر صلیب پر مُؤا، دفن کِیا گیا، اور پھر تیسرے روز مُردوں میں سے جی اُٹھا، یہ ثابت کرنے کے لئے کہ خُدا نے اُس کا کفارہ منظور کر لیا ہے (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳-۴)۔ پھر یسُوع آسمان پر اُٹھا لیا گیا اور اب وہ آپ کے ساتھ رِشتہ رکھنے کے لئے زِندہ ہے۔
اب باقی سارا کام ہمارا ہے کہ ہم خُدا کے کفارہ اور معافی کو قبول کریں۔ وہ ہمیں اِس کے لئے مجبور نہیں کرے گا۔ اور یہ ایک فیصلہ ہے جو ہر شخص کو ذاتی طور پر کرنے کی ضرورت ہے: کوئی دوسرا آپ کے واسطے یہ نہیں کر سکتا۔ "یِسُوع پر اِیمان لا تو تُو اور تیرا گھرانا نجات پائے گا" (اَعمال ۱۶:۳۱)۔
جب ہم خُدا پر بھروسا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اُس کارُوح القدس فوری طور پرہماری زِندگیوں میں سکونت کر لیتا ہے۔ ہماری گُنہگار فطرت کی جگہ ایک نئی فطرت لے لیتی ہے۔ رُوح القدس ہماری روز مرّہ زِندگی میں قوت، اِطمینان اور راہنمائی عطا کرتا ہے۔ اور ہم مرنے کے بعد ہمیشہ کی زِندگی کی بابت خُدا کےوعدے میں شریک ہو جاتے ہیں ۔ بائبل میں اِس کو نجات کہا جاتا ہے۔
نجات آپ کے لئے خُدا کی نعمت ہے، اور آپ اِس نعمت کو یِسُوع پر اِیمان لا کر حاصل کرتے ہیں۔ "کیونکہ گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے مگر خُدا کی بخشِش ہمارے خُداوند مسِیح یِسُوعؔ میں ہمیشہ کی زِندگی ہے" ( رُومِیوں ۲۳:۶)۔ آپ اِسی لمحے یِسُوع کی نجات کی نعمت کو حاصل کر سکتے ہیں اور خلوصِ دِل سے حسب ذیل دُعا کرنے سے یِسُوع کے ساتھ اپنی نئی زِندگی کا آغاز کر سکتے ہیں:
"اَے پیار ے خُدا، مجھے معلوم ہے کہ مَیں گُنہگار ہُوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تُو مجھ سے محبت رکھتا ہے اور مجھے نجات دینا چاہتا ہے۔ اَے یِسُوع میرا اِیمان ہے کہ تُو خُدا کا بیٹا ہے جِس نے میری خاطر صلیب پر اپنی جان دی۔ میرا اِیمان ہے کہ خُدا نے تجھے مُردوں میں سے جِلایا۔ اب مَیں اپنے گُناہوں سے کنارہ کرتا/کرتی ہُوں، اِیمان کے ساتھ تجھے اپنی زِندگی میں اپنا شخصی خُداوند اور نجات دہندہ قبول کرتا /کرتی ہُوں۔ میرے دِل میں آجا، میرے گُناہ معاف کر دے اور مجھے بچالے اَے یِسُوع۔ مَیں تیرا نام لے کر یہ دُعا مانگتا/مانگتی ہُوں۔"
...نجات کا فقدان ہے۔
...نجات یافتہ ہیں۔
...یہ فرماتا ہے!